ہم
اگر اک نظر ہمارے ہاں بہتے دریاؤں پر ڈالی جائے
تو تمام تر کا رخ مغرب کی اور سفر پستی کی جانب ہے۔ عندالمنزل سمندر دریا کی
شکل اور طبعی خصوصیات کو اپنے اندر ضم کر رہا ہے۔ اس کا ذائقہ اور استعمال یکسر
بدل جاتا ہے۔
کچھ یہی حال اس خطے پر بسنے والی قوم کا بھی ہے۔ مغرب کی خواہش ، پستی کی طرف بہتے
چلے جانا، اپنی خصوصیات و اقدار، شکل و صورت، اور طبیعت کا رہجان اس طرح سے بدلنا
کہ خود کو تسلی رہے کہ ضرورتِ وقت اور فطرت ہے۔
عرصہ ہوا معاشرے کو بھی اب اس تبدیلی پر کوئی
اعتراض نہیں رہا۔ معاشرے کی اقدار کی ضامن افرادی قوت کی منزل اور اقدار کا اندازہ
کسی بھی غیر سرکاری سکول کے ایک دورہ سے کیا جا سکتا ہے۔
مجھے معلوم نہیں کہ تم نے کیسے بُھلا دیا جبکہ
میں اُس دن سے اسی کشمکش میں ہوں، جس دن اعلیٰ تعلیم کے نام پر مجھے سمجھایا گیا
کہ اپنے ہی ساتھ بسنے والوں کے اندر آسائش کی خواہش پیدا کرو، پھر اس خواہش کو
ضرورت میں بدل دو اور جب مکمل یقین کروا چکو تو جس طرح چاہو اپنے ہی ہمسائے سے
مکمل فائدہ اٹھاؤ۔
میں صرف اتنی یقین دہانی چاہتا ہوں؛ کیا واقعی یہ روایات ہمیں بہتری کی طرف لے کر جا
رہی ہیں؟