جاں کو آفات نہ آفات کو جاں چھوڑتی ہے
مُجھ کو اب بھی تری اُمید کہاں چھوڑتی ہے
آؤ دیکھو میرے چہرے کے خد و خال کو اب
مان جاؤ گے محبت بھی نِشاں چھوڑتی ہے
میں نے یہ طے
کیا تھا کہ اب نہیں لکھنا، بیشک کہ وہ شعر ہو یا نثر۔۔۔ مگر ! ! !
آپ کبھی یہ
بھی سوچیں گی کہ آپ اکیلی ہیں میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔ شائد آپ نے میری دِلجوئی
کے لیے یہ کہہ دیا ہو، ممکن نہیں کہ کسی
بھی ذی روح نے آپ کے ساتھ چند ساعتیں گزاریں ہوں اور وہ آپ کے ساتھ چلنے کا
متمنی نہ ہو۔ میں آپ
کی ذات کے بارے میں مبالغہ نہیں کرتا، جو کہتا ہوں اس پر یقین رکھتا ہوں۔
آج اس کا
تجربہ پھر سے ہوا، آپ کو یاد ہو گا کہ
میں نےباغ شہر میں انگریزی کے حرف (وائے )
کی طرح زمین کو کاٹتے دریاؤں کا بتایا تھا، آج مغرب کے وقت اس مقام پر پھر سے
موجود تھا۔ وہ شیشے کی طرح بہتا صاف پانی ہوا کرتا تھا مگر آج مٹی رنگ گدلا پانی مکمل
جوش سے بہہ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر دُکھ کا احساس ہوا، پاس موجود ایک مقامی سے اس
کے گدلے پن کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ دن تک تو یہ پانی بلکل صاف تھا ، شام
میں گدلا ہوا شائد کہیں اوپر پہاڑوں کی زمین سِرک گئی ہو گی جسکی مٹی پانی میں شامل ہو
گئی۔
اب اُس شخص کو
کیا بتاتا کہ زمین کس کی سِرکی ہے۔۔۔
یقین جانیں آپ
کا ساتھ نہ صرف کسی شخص کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے بلکہ اس کے گِرد بسنے والوں ،
نباتات و حیوانات کے لیے بھی ثمرمند ہو سکتا ہے۔
ان سب باتوں سے
قطع تعلق ، آپ کے ساتھ یا تابع چلنے کی خواہش کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ آپ میرے مالکوں کی آل و اولاد سے ہیں، کوئی شخص سو دلائل لے کر آئے اور آپ کے اجداد کی طرف سے ایک بھی
دلیل نہ ہو تو بھی خدا عزوجل کی قسم میرا ،
میرے اجداد کا فیصلہ آپ کے اجداد کی اقتدا کرنے کا ہوگا۔ بچپن سے میں نے جو کھایا ، پیا ، مجھے بتایا
گیا کہ یہ میرے مالکوں کی نسبت کا مِلا ہے ۔ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ جہاں دو
گروہ ہو جائیں وہاں ہم آپ کے اجداد کی اقتدا کریں۔
محبت، عشق، خواہشات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، ایمان و عقیدت
اول ہیں۔ میں نے قبل از محبت آپ سے عقیدت
رکھی۔ جب جب آپ کو مالِکَۃ کہا تو ذہن میں یہ رہا کہ آپ مالکوں کی آل سے ہیں،
میرے لیے یہی کافی سے زیادہ کافی ہے آپ کا ساتھ دینے کے لیے۔مجھے آکر کوئی نہیں
بتا سکتا کہ آپ کسی معاملے میں غلط ہیں ۔
اوپر سب اس لیے کہ آپ یقین
رکھیں کہ میرے الفاظ فقط الفاظ نہیں ، عقیدت، محبت، عشق بھی ہیں۔
اگر کبھی وہ وقت آجائے جو خدا
کرے کہ لوح محفوظ میں لِکھا ہی نہ ہو کہ
آپ اکیلی ہوں تو حق سے، مالک کی حیثیت سے آپ مجھے یاد کر سکتی ہیں، ان شاء اللہ
آپ مجھے اپنے خیر خواہوں میں پائیں گی۔
(ورقہ نے پیارے آقاﷺ سے عرض کی تھی کہ کاش کہ
میں اس وقت موجود ہوں جب آپ کی قوم آپ کو ، آپ کے وطن سے ہجرت پر مجبور کرے گی۔
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ورقہ یہ چاہتے تھے کہ ایسا ہو۔۔۔ اس کا مطلب فقط یہ کہ
وہ چاہتے تھے کہ اگر ان کےعلم کے مطابق
ایسا وقت آنا ہے تو وہ موجود ہوں مگر خدمت کے لیے، آپ ﷺ کے ساتھ کے لیے۔۔۔)
میرا مقصد بھی یہی ہے۔۔۔ نہ کہ
تکلیف کی خواہش۔ میں موجود ہوں گاکہ آپ کی خدمت میں حاضر رہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ
آپ کو کبھی بھی ضرورت نہیں ہو سکتی۔
( میں اور بہت کہنا چاہتا ہوں
مگر پہلے ہی بہت طویل کر چکا ہوں اور جو کچھ ذہن میں چل رہا ہے لکھنا محال بھی ہے،
عشاء بھی ادا نہیں کی اب تک)
حقیقت یہ ہے
کہ اوریلیانو بابیلونیا اپنے پردادے کی لکھی قدیم دستاویز کو پڑھنا ختم کرے تو،
تحریروں کے برعکس آئینوں کا شہر موجود ہو اور کرنل اوریلیانوں کے جنگی ساتھیوں کی
اولادیں اس کی منتظر ہوں ، عین ممکن ہے وہ کمرے کا دروازا کھول لے گا اور باہر
آجائے گا۔ ۔ ۔
لیکن
میں تنہائیوں کے ناختم ہونے والے بھنور میں جکڑ گیا ہوں جس کی
معیاد سو سال مقرر نہیں کی گئی۔
ہم دونوں نے آکاش بیل بہت مرتبہ دیکھی ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو کچھ بھی بتانے دکھانے
کی ضرورت نہیں ہے بلاشبہ آپ کا علم
اور مشاہدہ مجھ سے بہت زیادہ ہے، لیکن میں آپ کی دی گئی بے
سبب چھوٹ کی وجہ سے کچھ بھی کہنے لگ جاتا
ہوں۔۔۔
دنیا میں بہت سی ایسی اشیاء موجود ہیں جن کے بارے میں انگِنت رائے قائم کی جا سکتی ہیں، میں سمجھتا ہوں ان میں سے ایک آکاش بیل بھی ہے۔
بچپنے کی عمر میں انسان اس کو
خوبصورت اور دلگیر سمجھتا ہے اور مسحور ہو جاتا ہے کہ زرد رنگ کی باریک سی بیل جس پر چھوٹی چھوٹی سفید گولیاں اور کہیں کہیں پھولوں
کا جامنی رنگ اپنی طرف کھینچتا ہے۔
لیکن یہی انسان بڑپن
میں اس کو امر بیل کہتا ہے، سمجھتا
اور سمجھاتا ہے کہ یہ موت کی مترادف ہے، جس درخت ، پودے کو اس کا آدھا انچ بھی چُھو
لے تو اس کی زندگی کم رہ جاتی ہے اور نجات کا واحد طریقہ درخت اور بیل کو ایک ساتھ آگ لگا کر راکھ میں
بدل دینا ہے۔
جبکہ یونان کے حکماء اس بیل کو انسان کے لیے موت سے نجات قرار دیتے تھے۔ صدیوں
سے بستر پر لگے جوانوں اور معاشرے کی
بربادی کرتے انسانوں کو اس کا محلول پِلا کر معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا
رہا ہے۔
ایک زاویہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بیل ایک سبز، ترو تازہ
اور بے پناہ جُسے کے حامل درخت سے مِل جائے تو درخت
خود کی فکر چھوڑ کر صرف اِس پر توجہ دیتا ہے، بیل تو
مکفول ہے، اس کی تمام تر ذمہداری کفیل پر ہی ہو گی۔ اگر یہ اتنی ہی خوبصورت ہے تو زمین پر موجود
لاکھوں درختوں پر کیوں نہ پھِیلا دی گئی، اور اگر اتنی ہی درختوں
کی دشمن ہے تو اب تک زمین پر لاکھوں درخت موجود کیسے ہیں۔
یونان کے حکماء کا فلسفہ میرے نظریے کے قریب تر لگتا ہے کہ اگر
درخت اور بیل راستہ نکال لیں تو دونوں ہزاروں سال سے نہ صرف خود موجود رہیں
بلکہ اپنے ارد گرد موجود دوسری انواع کے
لیے بھی باعث زندگی بن جائیں۔ اور اگر راستہ نہ نکال سکیں تو درخت اور بیل دونوں کو مرنا ہوتا ہے۔
کیا آپ کو بیل ،محبت کی مترادف نظر آتی ہے؟ آپ درخت یا بیل سے کوئی کردار ادا کر رہے ہیں؟ یا آپ دور سے دیکھتے بچوں کے ساتھ ہیں؟ یا بزرگوں کے ساتھ تجزیہ کرنے والوں میں ہیں!!!
٭
اس نے
جب جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن
میں نے
تب تب یہ بتایا کہ تمہارا محسن
اس کو
پانا تو مقدر کی لکیروں میں نہیں
اس کو
کھونا بھی کریں کیسے گوارا محسن
ہم کو
معلوم ہے اب لوٹ کے آنا تیرا
گر نہیں
ممکن مگر پھر بھی خدارا محسن
٭
اب کے
ہم پیاس کے مارے بھی نہیں آئیں گے
یم بہ یم آب پکارے
بھی نہیں آئیں گے
رائیگانی
کا وہ عالم ہے کہ یوں لگتا ہے
میرے
حصے میں خسارے بھی نہیں آئیں گے
اتنی بے
زار ہیں آنکھیں کہ خدا جانتا ہے
ہمکو اب
خواب تمہارے بھی نہیں آئیں گے
کوئی
گرداب نہیں آئے گا اب پیش سفر
اور ستم
یہ ہے کنارے بھی نہیں آئیں گے
ایسے
چھوڑیں گے تیرا شہر کہ ہم اس کی طرف
گردشِ
وقت کے مارے بھی نہیں آئیں گے
(ظہیر
مشتاق رانا)
حادثہ بن کہ کوئی خواب بکھر جائے تو کیا ہو!
وقت جذبات کو تبدیل نہیں کر سکتا
دور ہو جانے سے احساس نہیں مر سکتا
یہ محبّت ہے دلوں کا رشتہ
ایسا رشتہ جو زمینوں کی طرح
سرحدوں میں کبھی تقسیم نہیں ہو سکتا
تو کسی اور کی راتوں کا حسین چاند سہی
میری دنیا کے ہر رنگ میں شامل تو ہے
تجھ سے روشن ہیں
میرے خواب
میری امید
میں کسی بھی راہ سے گزروں
میری منزل تو ہے
میری منزل تو ہے
صرف تو
لکھوں گا خون سے یہ داستان جو گزری مجھ پہ
مر جاؤں گا مگر کسی سے کچھ کہوں گا نہیں
سفر جو کر رہا ہوں اسکا میں مسافر نہیں
میری منزل تھی تو، مگر اب یہ ممکن نہیں
میری درماندہ جوانی کی تمناؤں کے
مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو
کون جانے مرے امروز کا فردا کیا ہے
قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں
دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں
دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں
میرا حاصل میری تقدیر بتا دے مجھ کو
تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہک
تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں
ڈھونڈتی رہتی ہیں تخئیل کی بانہیں تجھ کو
سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں
تیرا الطاف و کرم ایک حقیقت ہے مگر
یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو
تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام
دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو
تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن
میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں
تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم
تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں
پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی
تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں
تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں
ان تمناؤں کا اظہار کروں یا نہ کروں
میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں
تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے
کبھی اپنی سی کبھی غیر نظر آئی ہے
کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے
چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں
عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے
زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشان سی تھی
اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے
میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی
تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں
پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو
میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں
(ساحر لدھیانوی)