اب کے
ہم پیاس کے مارے بھی نہیں آئیں گے
یم بہ یم آب پکارے
بھی نہیں آئیں گے
رائیگانی
کا وہ عالم ہے کہ یوں لگتا ہے
میرے
حصے میں خسارے بھی نہیں آئیں گے
اتنی بے
زار ہیں آنکھیں کہ خدا جانتا ہے
ہمکو اب
خواب تمہارے بھی نہیں آئیں گے
کوئی
گرداب نہیں آئے گا اب پیش سفر
اور ستم
یہ ہے کنارے بھی نہیں آئیں گے
ایسے
چھوڑیں گے تیرا شہر کہ ہم اس کی طرف
گردشِ
وقت کے مارے بھی نہیں آئیں گے
(ظہیر
مشتاق رانا)
No comments:
Post a Comment