لکھوں گا خون سے یہ داستان جو گزری مجھ پہ
مر جاؤں گا مگر کسی سے کچھ کہوں گا نہیں
سفر جو کر رہا ہوں اسکا میں مسافر نہیں
میری منزل تھی تو، مگر اب یہ ممکن نہیں
No comments:
Post a Comment