Wednesday, 25 September 2024

* ایک نظر *

ہم دونوں نے آکاش بیل بہت مرتبہ دیکھی ہو گی۔   میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو کچھ بھی بتانے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے بلاشبہ آپ کا  علم اور  مشاہدہ  مجھ سے بہت زیادہ ہے، لیکن میں آپ کی دی گئی بے سبب چھوٹ  کی وجہ سے کچھ بھی کہنے لگ جاتا ہوں۔۔۔

دنیا میں بہت سی ایسی اشیاء موجود ہیں جن کے بارے میں  انگِنت رائے قائم کی جا سکتی ہیں،  میں سمجھتا ہوں ان میں سے ایک آکاش بیل  بھی ہے۔  بچپنے کی عمر میں انسان  اس کو خوبصورت اور دلگیر سمجھتا ہے اور مسحور ہو جاتا ہے  کہ زرد رنگ کی باریک سی بیل جس پر  چھوٹی چھوٹی سفید گولیاں اور کہیں کہیں پھولوں کا جامنی رنگ  اپنی طرف کھینچتا ہے۔

لیکن یہی انسان بڑپن  میں  اس کو امر بیل کہتا ہے، سمجھتا اور سمجھاتا ہے کہ یہ موت کی مترادف ہے، جس درخت ، پودے کو اس کا آدھا انچ بھی چُھو لے تو اس کی زندگی کم رہ جاتی ہے اور نجات کا واحد طریقہ  درخت اور بیل کو ایک ساتھ آگ لگا کر راکھ میں بدل دینا ہے۔

جبکہ یونان کے حکماء اس بیل کو  انسان کے لیے موت سے نجات قرار دیتے تھے۔ صدیوں سے  بستر پر لگے جوانوں اور معاشرے کی بربادی کرتے انسانوں کو اس کا محلول پِلا کر معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ایک زاویہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بیل ایک سبز، ترو تازہ اور بے پناہ جُسے کے حامل درخت  سے مِل  جائے تو  درخت  خود کی فکر چھوڑ کر صرف اِس پر توجہ دیتا ہے،  بیل  تو مکفول ہے، اس کی تمام تر ذمہداری کفیل پر ہی ہو گی۔  اگر یہ اتنی ہی خوبصورت ہے تو زمین پر موجود لاکھوں  درختوں پر  کیوں نہ پھِیلا دی گئی، اور اگر اتنی ہی درختوں کی دشمن ہے تو اب تک زمین پر لاکھوں درخت موجود کیسے ہیں۔

یونان کے حکماء کا فلسفہ میرے نظریے کے قریب تر لگتا ہے کہ اگر درخت اور بیل راستہ نکال لیں تو دونوں ہزاروں سال سے نہ صرف خود موجود رہیں بلکہ  اپنے ارد گرد موجود دوسری انواع کے لیے بھی باعث زندگی بن جائیں۔ اور اگر راستہ نہ نکال سکیں تو  درخت اور بیل دونوں کو مرنا ہوتا ہے۔

کیا آپ کو  بیل ،محبت کی مترادف نظر آتی ہے؟  آپ درخت یا بیل سے کوئی کردار ادا کر رہے ہیں؟  یا آپ دور سے دیکھتے بچوں کے ساتھ ہیں؟ یا  بزرگوں کے ساتھ تجزیہ کرنے والوں میں ہیں!!!  

No comments:

Post a Comment