Thursday, 11 October 2018

*نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں*

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں
نہ دوائے درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں
نہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں
مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیا
جو خزاں سے باغ اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں
نہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوں
جو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں
میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

Tuesday, 18 September 2018


۔*۔
سُفنے دے وچ ملیا ماہی تے میں گل وچ پا لیّاں باواں​۔ ۔
ڈر دی ماری اکھ نہ کھولاں کتے فیر وچھڑ نہ جاواں ۔ ۔ ۔ ۔ !
ﺭﺍﺕ ﭘﻮﮮ ﺗﮯ ﺑﮯ ﺩﺭﺩﺍﮞ ﻧﻮﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺁﻭﮮ ۔ ۔ ۔ !
ﺩﺭﺩ ﻣﻨﺪﺍﮞ ﻧﻮﮞ ﯾﺎﺩ ﺳﺠﻦ ﺩﯼ ﺳﺘﯿﺎﮞ ﺁﻥ ﺟﮕﺎﻭﮮ!!!
۔*۔

Saturday, 25 August 2018

۔*۔ میں ابتدائے عشق سے بےمہر ہی رہا ۔*۔

۔*۔
تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیں
پس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو
بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تم
جب بس میں کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو

تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرض
تم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو
میں ابتدائے عشق سے بے مہر ہی رہا
تم انتہائے عشق کا معیار ہی رہو

تم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئی
اس رنگ اس ادا میں بھی پرکار ہی رہو
میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجات
میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو
اپنی متاع ناز لٹا کر مرے لیے
بازار التفات میں نادار ہی رہو

جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکا
غم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکا
جب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیں
جب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیں
پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
تنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں

۔*۔

Monday, 16 July 2018

۔*۔ آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ س


۔*۔

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے

جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا

جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے

دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر

اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے

کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے

جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں

اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے

تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور

جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ

زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے

تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں

تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے

اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے

جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

۔*۔