کل انجمن یاراں کی بیٹھک لگی۔ رات گئے طعام کے
بعد کچھ لمحات میں خاموشی چھانے لگی۔ سحری کے قریب مجھ سے خاصی سرگوشی کرتے ہوئے نسیمِ
جاں نے تمہارا ذکر کیا۔ شکوہ شکایات کرتے ہوئے خامیاں اور خامیاں بیان کرتے ہوئے بُرائیاں
کرنے لگیں۔
میری عادت ہے کہ کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے
قائم نہیں کرتا جب تک خود مشاہدہ نہ کر لوں۔ اب تم سے تو ملاقات ہوئی نہیں اس
لیے کوئی رائے دینے سے قاصر رہا۔ حافظ صاحب کے اصرار پر نماز پڑھی اور سو رہا۔
پھر چَھے سال قبل تم سے ملاقات ہوہی گئی۔ تم اتنی خوش لباس نہیں تھیں کہ میں متوجہ ہوتا، تم عالم العلوم نہیں تھیں کہ میں متاثر
ہوتا، تم خوبصورت نہیں تھیں کہ میں اسیر ہوتا۔ سانولی رنگت، متناسب قد و وزن، ہم
عصروں سی سوچ، الغرض کچھ بھی ایسا نہ تھا کہ گرویدہ ہوتا۔ یہ وہ حقائق تھے جو میری
بساط سے باہر تھے نہ جانے تمہیں کیسے پہنچے۔ کچھ ہی وقت میں تم مقابل آکھڑی ہوئیں،
میں نے بھی اس دعوت کو قبول کیا۔ ہر مقابلے میں کچھ وقت مقابل کے ساتھ گزارنا لازم
ہوتا ہے اور میرے لیے یہ وقت بہترین ثابت ہوا۔ میں نے جب غورکیا تو خود کو تمہاری طرف
دوزانوں اور متوجہ پایا، اٹھنا چاہا تو اسیر پایا۔ پھر مجھے معلوم نہیں کہ مقابلہ
مکمل ہوا کہ نہیں اور اگر ہوا تو کون ہارا؟ جیت کا سوال نہیں کہ وہ یقیناً تمہارا
خاصا رہی۔
تمہاری صفات پر گفتگو تمہیں سے رہی کہ کسی اور
سے زیر بحث ہونا وقت کا ضیاع تھا کہ تمہارے خصائل سمجھنے میں مجھے ایک عرصہ لگا
اور اس عرصہ کا دوگنا تمہیں خود کو سمجھنے میں لگانا پڑا۔
تمہارے خلاف سوچنے کی سعی کرتا رہا اور موقع کی
تلاش میں رہا کہ تم آنکھ پھیرو اور میں نکل لوں مگر جب تم نے آنکھ پھیری تو میں
نکل نہ سکا اور اسکی بھی وجہ مجھے معلوم نہیں۔
خدا اس ماہرُخ کو خوش رکھے کہ اگر وہ کل تمہارا ذکر
نہ کرتیں تو شائد میں شرف ملاقات سے محروم رہتا۔
۔*۔