Monday, 12 August 2019

۔*۔ چاہیے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ۔*۔

وصل میں بھی دل بیزار اٹھا لائیں گے
کب کہاں کیا میرے دلدار اٹھا لائیں گے

چاہیے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ
ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے

یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا
اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے

گر کسی جشن مسرت میں چلے بھی جائیں
چن کے آنسو ترے غمخوار اٹھا لائیں گے

قتل کر دیں گے مجھے یار ! خبر ہے مجھ کو
دفن کرنے مجھے اغیار اٹھا لائیں گے

جاں نثار ایسے ہیں احباب جو پانی مانگوں
تو کنواں کھودنے تلوار اٹھا لائیں گے

کون سا پھول سجے گا تیرے جُوڑے میں بھلا
اس شش و پنج میں گلزار اٹھا لائیں گے

عطا تراب

Friday, 28 June 2019

۔*۔ بے قدرے لوگ ۔*۔

۔*۔

بہت حوصلہ چاہیے تم سے ملاقات کے لیے۔

تم ملاقات ایسے شروع کرتی ہو جیسے تعارفی ملاقات ہو۔  تمہاری بے نیاز و بے پرواہ آواز  ابتدائی لمحات کو سالوں کی زندگی بخش دیتی ہے۔

نہیں اعتراض نہیں کر رہا، اعتراف کر رہا ہوں کہ مکتب عشق کے درجہ اولی میں کمپارٹمنٹ ہے۔
ادھر بیٹھو، سنو،

میں تمہارے شہر آیا تھا، سڑک کی پہلی اترائی خود کو ناپتے ہوئے اترا، تمہیں سلام کرکے آتی ہوائوں کا گزر ہوتا ہے ادھر سے۔۔۔ اور یہاں سے ہی لگتا ہے کہ آگے تمہاری زلف کے لمس سے بےخم ہوتی ہوائیں پرسکون بہاروں کا پیام لیے سرسبز پہاڑوں کی چوٹیوں پر خوشبو بانٹتی ہونگی۔
حساب میں  چڑھائی چڑھنے کا اقبال نہ نکلا، تو الٹے قدم ہو لیا۔

تمہارے شہر کی خارجی حدود میں ہی جسم تپ گیا تھا۔ آدھا سفر حوصلہ جمع کیا اور جب رابطہ کرنے لگا تو فون زندگی ہار گیا تھا، کمبخت مجھ سے زیادہ غیرت مند نکلا۔

چار، چھے دن بستر سے لگا رہا، ایک رات لگا کہ وقت آخری سانس لے رہا ہے تو میں سچ مچ ڈر گیا۔
تمہیں کون خبر کرے گا؟ تمہیں کون بتائے گا کہ غائب نہیں ہوا ہوں؟
تم تو بے قدرے لوگ کا لقب میرے نام کا حصہ کر دوگی۔ نہیں نہیں کہنے پر اعتراض کسے! ڈر تھا کہ سمجھنے بھی لگو گی۔

صبح بھلا چنگا اٹھ بیٹھا۔ فون کا خیال آیا تو اسکی بتقریب آخری رسومات ادا کیں، اپنے پہلے دن ہی تمہارے ہاتھوں کھیلا تھا اس نے، یہ حق تو بنتا ہی تھا اسکا۔ بے وفا نہ تھا کہ اب تک لمس کی خوشبو ہے اس میں۔
اور میں!!!

میں پھر سے تمہارے سامنے آ بیٹھا۔بڑا دل ہے تمہارا جو پھر سے مجھے سنے جا رہی ہو۔

سنو وہ چائے۔۔۔

حدود تمہارے ہاتھ کی چائے تک متعین کی تھیں، کبھی اس حد تک پہنچنے کی اجازت دو مجھے۔
اچھا چلو کسی ریستوران کی میز پر دھری کیتلی سے چائے کی پیالی بنا کر اپنے ہاتھوں سے میرے سامنے رکھ دو، قسم دوں گا کہ ذائقہ زبان سے اترے تو تمہارے گرد طواف کرتا وقت میرے نصیب میں نہ رہے۔

آہ پھر سے عنایات کو بھول کر خواہشات پر اتر آیا، سچ کہتی ہو تم

بے قدرے لوگ

۔*۔

 

Wednesday, 22 May 2019

وُہ اِتنے نازُک ہیں | شہزاد قیس

.*.
رُکو تو تم کو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں
کلی اَکیلے اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کہا طبیب نے ، گر رَنگ گورا رَکھنا ہے
تو چاندنی سے بچائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ بادلوں پہ کمر ’’سیدھی‘‘ رَکھنے کو سوئیں
کرن کا تکیہ بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ نیند کے لیے شبنم کی قرص بھی صاحب
کلی سے پوچھ کے کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بدن کو دیکھ لیں بادل تو غسل ہو جائے
دَھنک سے خشک کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سیاہی شب کی ہے چشمِ غزال کو سُرمہ
حیا کا غازہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دو قدم چلیں پانی پہ ، دیکھ کر چھالے
گھٹائیں گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی جو چٹکے تو نازُک ترین ہاتھوں سے
وُہ دونوں کان چھپائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سریلی فاختہ کُوکے جو تین مُلک پرے
شکایت اُس کی لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پسینہ آئے تو دو تتلیاں قریب آ کر
پروں کو سُر میں ہلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہَوائی بوسہ دِیا پھول نے ، بنا ڈِمپل
اُجالے ، جسم دَبائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گھپ اَندھیرے میں خیرہ نگاہ بیٹھے ہیں
اَب اور ہم کیا بجھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گنگنائیں تو ہونٹوں پہ نیل پڑ جائیں
سخن پہ پہرے بٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ زیورات کی تصویر ساتھ رَکھتے ہیں
یا گھر بلا کے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کبوتروں سے کراتے تھے بادشاہ جو کام
وُہ تتلیوں سے کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ پانچ خط لکھیں تو ’’شکریہ‘‘ کا لفظ بنے
ذِرا حساب لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گواہی دینے وُہ جاتے تو ہیں پر اُن کی جگہ
قسم بھی لوگ اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بس اِس دلیل پہ کرتے نہیں وُہ سالگرہ
کہ شمع کیسے بجھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سانس لیتے ہیں تو اُس سے سانس چڑھتا ہے
سو رَقص کیسے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شراب پینا کجا ، نام جام کا سن لیں
تو جھوم جھوم سے جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

نزاکت ایسی کہ جگنو سے ہاتھ جل جائے
جلے پہ خوشبو لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گھروندے ریت سے ساحل پہ سب بناتے ہیں
وُہ بادلوں پہ بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جلا کے شمع وُہ جب غُسلِ آفتاب کریں
سفیدی رُخ پہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شکار کرنے کو جانا ہے ، کہتے جاتے ہیں
پکڑنے تتلی جو جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شکاریوں میں اُنہیں بھی جو دیکھیں زَخمی شیر
تو مر تو شرم سے جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُٹھا کے لاتے جو تتلی تو موچ آ جاتی
گھسیٹتے ہُوئے لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی کو سونگھیں تو خوشبو سے پیٹ بھر جائے
مزید سونگھ نہ پائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غلام چٹکی نہ سننے پہ مرتے مرتے کہیں
خدارا تالی بجائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

نکاح خوان کو بس ’’ایک‘‘ بار وَقتِ قُبول
جھکا کے پلکیں دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہر ایک کام کو ’’مختارِ خاص‘‘ رَکھتے ہیں
سو عشق خود نہ لڑائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُتار دیتے ہیں بالائی ، سادہ پانی کی
پھر اُس میں پانی ملائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دَھڑکنوں کی دَھمک سے لرزنے لگتے ہیں
گلے سے کیسے لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سیر ، صبح کی کرتے ہیں خواب میں چل کر
وَزن کو سو کے گھٹائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وَزن گھٹانے کا نسخہ بتائیں کانٹوں کو
پھر اُن کو چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

حنا لگائیں تو ہاتھ اُن کے بھاری ہو جائیں
سو پاؤں پر نہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تِل کے بوجھ سے بے ہوش ہو گئے اِک دِن
سہارا دے کے چلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کل اَپنے سائے سے وُہ اِلتماس کرتے تھے
یہاں پہ رَش نہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

تھکن سے چُور وُہ ہو جاتے ہیں خدارا اُنہیں
خیال میں بھی نہ لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پری نے ہاتھ سے اَنگڑائی روک دی اُن کی
کہ آپ ٹوٹ نہ جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غزل وُہ پڑھتے ہی یہ کہہ کے قیس رُوٹھ گئے
کہ نازُکی تو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں
.*.

Wednesday, 3 April 2019

۔*۔ ہم ۔*۔

میں واپس وطن  جانے کی سوچ رہا تھا لیکن بہت سوچ کر بھی فیصلہ نہ کر سکا۔  مجھے معلوم ہی نہیں کہ کہاں جا سکتا ہوں۔ ۔ ۔
تم نے مصروفیات تبدیل کر لیں۔ محفلِ یاراں بھی نہ رہی۔
میں اپنی شکست خود لکھنے لگا ہوں۔ افسوس اس پر ہے کہ میرے خیر خواہوں کو اس  میں بہتری نظر آرہی ہے۔
ہاں گھر نہیں ہے اب۔
کاش کہ میرے ہم نوا ہوتے۔ ۔ ۔ ہم "ہم" ہوتے تو کبھی شکست خوردہ نہ ہوتے۔
تم جانتے ہو کہ ایک دوسرے کا سہارا، ایک دوسرے کا حوصلہ اور پیش منظر قیامت رہے "ہم" ۔

Tuesday, 26 March 2019

تجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں

ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں
ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں
اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا
تجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں
تجھ کو خبر نہیں کہ ترا حال دیکھ کر
اکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں
جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباب
اس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں
بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آ گہی
تیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں
اک سطر بھی کبھی نہ لکھی میں نے تیرے نام
پاگل تجھی کو یاد بھی آتا رہا ہوں میں
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
اک حسنِ بے مثال کی تمثیل کے لئے
پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں
اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا
ذروں کو آفتاب بتاتا رہا ہوں میں
کیا مل گیا ضمیرِ ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں