Friday, 28 June 2019

۔*۔ بے قدرے لوگ ۔*۔

۔*۔

بہت حوصلہ چاہیے تم سے ملاقات کے لیے۔

تم ملاقات ایسے شروع کرتی ہو جیسے تعارفی ملاقات ہو۔  تمہاری بے نیاز و بے پرواہ آواز  ابتدائی لمحات کو سالوں کی زندگی بخش دیتی ہے۔

نہیں اعتراض نہیں کر رہا، اعتراف کر رہا ہوں کہ مکتب عشق کے درجہ اولی میں کمپارٹمنٹ ہے۔
ادھر بیٹھو، سنو،

میں تمہارے شہر آیا تھا، سڑک کی پہلی اترائی خود کو ناپتے ہوئے اترا، تمہیں سلام کرکے آتی ہوائوں کا گزر ہوتا ہے ادھر سے۔۔۔ اور یہاں سے ہی لگتا ہے کہ آگے تمہاری زلف کے لمس سے بےخم ہوتی ہوائیں پرسکون بہاروں کا پیام لیے سرسبز پہاڑوں کی چوٹیوں پر خوشبو بانٹتی ہونگی۔
حساب میں  چڑھائی چڑھنے کا اقبال نہ نکلا، تو الٹے قدم ہو لیا۔

تمہارے شہر کی خارجی حدود میں ہی جسم تپ گیا تھا۔ آدھا سفر حوصلہ جمع کیا اور جب رابطہ کرنے لگا تو فون زندگی ہار گیا تھا، کمبخت مجھ سے زیادہ غیرت مند نکلا۔

چار، چھے دن بستر سے لگا رہا، ایک رات لگا کہ وقت آخری سانس لے رہا ہے تو میں سچ مچ ڈر گیا۔
تمہیں کون خبر کرے گا؟ تمہیں کون بتائے گا کہ غائب نہیں ہوا ہوں؟
تم تو بے قدرے لوگ کا لقب میرے نام کا حصہ کر دوگی۔ نہیں نہیں کہنے پر اعتراض کسے! ڈر تھا کہ سمجھنے بھی لگو گی۔

صبح بھلا چنگا اٹھ بیٹھا۔ فون کا خیال آیا تو اسکی بتقریب آخری رسومات ادا کیں، اپنے پہلے دن ہی تمہارے ہاتھوں کھیلا تھا اس نے، یہ حق تو بنتا ہی تھا اسکا۔ بے وفا نہ تھا کہ اب تک لمس کی خوشبو ہے اس میں۔
اور میں!!!

میں پھر سے تمہارے سامنے آ بیٹھا۔بڑا دل ہے تمہارا جو پھر سے مجھے سنے جا رہی ہو۔

سنو وہ چائے۔۔۔

حدود تمہارے ہاتھ کی چائے تک متعین کی تھیں، کبھی اس حد تک پہنچنے کی اجازت دو مجھے۔
اچھا چلو کسی ریستوران کی میز پر دھری کیتلی سے چائے کی پیالی بنا کر اپنے ہاتھوں سے میرے سامنے رکھ دو، قسم دوں گا کہ ذائقہ زبان سے اترے تو تمہارے گرد طواف کرتا وقت میرے نصیب میں نہ رہے۔

آہ پھر سے عنایات کو بھول کر خواہشات پر اتر آیا، سچ کہتی ہو تم

بے قدرے لوگ

۔*۔