وصل میں بھی دل بیزار اٹھا لائیں گے
کب کہاں کیا میرے دلدار اٹھا لائیں گے
چاہیے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ
ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے
یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا
اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے
گر کسی جشن مسرت میں چلے بھی جائیں
چن کے آنسو ترے غمخوار اٹھا لائیں گے
قتل کر دیں گے مجھے یار ! خبر ہے مجھ کو
دفن کرنے مجھے اغیار اٹھا لائیں گے
جاں نثار ایسے ہیں احباب جو پانی مانگوں
تو کنواں کھودنے تلوار اٹھا لائیں گے
کون سا پھول سجے گا تیرے جُوڑے میں بھلا
اس شش و پنج میں گلزار اٹھا لائیں گے
عطا تراب