۔*۔
اِس دریا کے قطروں کے برابر باتیں بتانی ہیں تمہیں اور بولنا نہیں
ہے، بلکل الگ الگ مصرعے ہیں، جملے ہیں، خیال ہیں، خواب ہیں، مگر پیناڈول اُس دوپٹے
کا کام کرنے سے قاصر ہے۔
اس وقت تم میری نظر سے دیکھو، سامنے مشرق کی طرف سے یہ دو دریا ایسے
مل رہے ہیں کہ زمین تین حصوں میں منقسم ہے، جیسے انگریزی زبان کا حرف
"وائے" ہو۔ سامنے گھروں دفتروں اور دوکانوں کا ہجوم ہے، دائیں جانب پہاڑ
آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور اِس جانب میں ہوں، سفید کاٹن (بغیر کسی کڑھائی کے)،
پشاوری چپل، گھڑی۔ ۔ ۔ اب کہ میں نے کوشش کی کہ سب کمی ختم کروں مگر اب بہت دیر ہو
چکی۔۔۔
چھے سال پہلے، پہلی مرتبہ اس جگہ آیا تو کم از کم ایک رات اور ایک
مکمل دن تمہیں بتاتا رہا ہونگا کہ کیسے سبز پہاڑ برف سے بھرے سفید پہاڑوں کو اپنے
حصار میں لیے ہیں اور تمہارے پاس ایسا ایک دوپٹہ بھی ہے۔
دو سال قبل یہاں جنت تھی، سرسبز پہاڑ، بادلوں سے بھرا آسمان، ٹھنڈی
ہوا، اور تمہاری اور دریا کی یکسر آتی آواز۔۔۔
یہ میرا تخی٘ل نہیں قدرت کا تغی٘ر ہے کہ اب سبزہ اور برف دونوں نہیں ہیں۔
اب دریا خشک ہیں، بادل نہیں ہیں، پہاڑوں پر سبزہ نہیں، اور تم۔۔۔
اب راتیں سرد سے یخ ہونے لگی ہیں، اب پاؤں زیادہ ٹھنڈے ہو جاتے ہیں
اور یہ حقیقت بنتی نظر آتی ہے کہ اُس جھونپڑی کو آگ لگا کے ہی پاؤں گرم ہوں۔
رات بھر خود سے بحث سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جو ممکن نہیں، اسکی
تصویر اب نہیں بنانی۔ اب اس غلام نسل لڑکے کو محل کی فصیلوں کا سایہ بھی نہیں
پہنچانا، بیشک شاہ زادی اپنے ہی محل میں گھٹن محسوس کیوں نہ کرتی ہو، اور بیشک یہ
خیال اور باہر کی دھوپ اُس لڑکے کو درگور ہی کردے۔
حال یہ ہے کہ دستار تو نہ بچا سکے تھے اب سر بھی نہیں۔
اسی ناممکن کو ممکن کر رہا ہوں،
لیکن روح کو بدن سے، خون کو رگ سے الگ کرنا میرے بس سے باہر ہے، کوئی
اس کوشش میں ہے اگر کر سکے تو بخوشی کر لے۔
تم اگر خود کو بُھلا سکو تو بہترین ہے،
اگر نہیں تو تم بھی عبد الحئی لدھیانوی کو، راحت اندوری کو، فرحت
عباس کو، سارہ شگفتہ کو پڑھو، اس سے آگے بڑھ کر تابش کو، ناصر کاظمی کو، سلیم
جعفری کو، مجروح کو، یا پھر جون کو، پروین شاکر کو یا پھر مومن کو، استاد داغ
دہلوی کو پڑھتے رہنا۔
لیکن بہتر یہی ہے کہ خود کو پاک کرو اور اصفیا میں شامل ہو جاؤ، میں
اساتذہ و احباب، جتنے بھی انسانوں سے ملا، کسی کا دل تمہارے دل سے پاک نہیں محسوس
ہوا۔
فی امان اللہ
۔*۔