ہمارا کیا ہے کہ ہم تو چراغِ شب کی طرح
اگر جلے بھی تو بس اتنی روشنی ہو گی
کہ جیسے تُند اندھیروں کی راہ میں جگنو
ذرا سی دیر کو چمکے، چمک کے کھو جائے
پھر اس کے بعد کسی کو نہ کچھ سُجھائی دے
نہ شب کٹے نہ سراغِ سحر دکھائی دے
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو پس ِ غبار ِ سفر
اگرچلے بھی تو بس اتنی راہ طے ہو گی
کہ جیسے تیز ہواؤں کی زد میں نقش ِ قدم
ذرا سی دیر کو ابھرے ابھر کے مٹ جائے
پھر اس کے بعد نہ منزل نہ راہگزار ملے
حدِ نگاہ تلک دشت ِ بے کنار ملے
ہماری سمت نہ دیکھو کہ کوئی دیر میں ہم
قبیلہءدل و جاں سے بچھڑنے والے ہیں
بسے بسائے ہوئے شہر اپنی آنکھوں کے
مثالِ خانہء ویراں اجڑنے والے ہیں
ہوا کا شور یہی ہے تو دیکھتے رہنا
ہماری عمر کے خیمے اکھڑنے والے ہیں
اب اس کے بعد تمھارے لئے ہیں رنگ سبھی
سبھی رتیں سبھی موسم تمہی سے مہکیں گے
ہر ایک لوح ِ زماں پر تمہارے نام کی مہر
ہر ایک صبح تمہاری جبیں پہ سجدہ گزار
طلوعِ مہر ِ درخشاں، فروغ ِ ماہِ تمام
یہ رنگ و نور کی بارش تمہارے عہد کے نام
اب اس کے بعد یہ ہو گا کہ تم پہ ہونا ہے
ورُودِ نعمت ِ عظمٰی ہو یا نزول ِ عذاب
تمہی پہ فرض رہے گی تمہارے فرض میں ہے
دلوں کی زخم شماری، غم ِ جہاں کا حساب
گناہ و وصل کی لذت کہ ہجرتوں کا ثواب
تمام نقش تمہی کو سنوارنا ہوں گے
رگوں میں ضبط کے نشتر اتارنا ہوگا
اب اس طرح ہے کے گذرے دنوں کے ورثے میں
تمہاری نذر ہیں ٹکرے شکستہ خوابوں کے
جلے ہوئے کئی خیمے دریدہ پیراہن
بُجھے چراغ، لہو انگلیاں، فگار بدن
یتیم لفظ، ردا سوختہ انا کی تھکن
تمہیں یہ زخم تو آنکھوں میں گھولنا ہوں گے
عذاب اور بھی پلکوں پہ تولنا ہوں گے
وہ یوں بھی ہے کہ اگر حوصلے سلامت ہوں
بہت کھٹن بھی نہیں رہگزار ِ دشتِ جنوں
یہی کہ آبلہ پائی سے جی نہ اکتائے
جراحتوں کی مشقت سے دل نہ گھبرائے
رگوں سے درد کا سیماب اس طرح پھوٹے
نشاطِ کرب کا عالم فضا پہ طاری ہو
کھبی جو طبل بجے مقتل ِ حیات سجے
تو ہر قدم پہ لہو کی سبیل جاری ہو
جو یوں نہیں تو چلو اب کے اپنے دامن پر
بہ فیض ِ کم نظری داغ بے شمار سہی
اُدھر یہ حال کہ موسم خراج مانگتا ہے
ادھر یہ حال کہ ہر عکس آئنے سے خجل
نہ دل میں زخم نہ آنکھوں میں آنسووں کی چمک
جو کچھ نہیں تو یہی رسم ِ روزگار سہی
نہ ہو نصیب رگ ِ گل تو نوک ِ خار سہی
جو ہو سکے تو گریباں کے چاک سی لینا
وگر نہ تم بھی ہماری طرح سے جی لینا
