Wednesday, 3 March 2021

۔*۔ ‏تم ‏اور ‏تم ‏۔*۔

نجانے کیا کیا کہتا رہتا ہوں میں تم سے، شکر ہے تم سنتے نہیں، یا سنتے بھی ہو تو کوئی رد عمل نہیں۔ 

کتنے ہی دنوں کے کتنے ہی پہر یہ سوچتا رہا ہوں کہ تم شائد فقط میرا تخیل ہو یا پھر حقیقت میں تم موجود ہو، اسی زمین پر؟ 

پرانے کاغذات کھنگالے، حقیقت میں ہو تو یہ تو صرف 9 سال کا عرصہ بنا لیکن تم تو ہزاروں سال سے میرے ساتھ ہو، پھر تو تم تخیل ہوئے نا۔ لیکن اتنا پختہ خیال کہ خوشبو، حرارت و وزن بھی محسوس ہو؟ پتا نہیں تم ہی بتاؤ۔۔۔

اچھا سنو، میں نے دیکھا ہے کہ، میں کسی بھی زبان میں کسی بھی موضوع پر کسی بھی لکھاری کی کتاب پڑھنے لگوں تو تم موجود رہتے ہو جب تک کتاب مکمل نہ ہو جائے، اور تمہاری موجودگی نیند کا موجب ہے، اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔

ویسے تو میں سناتا ہوں ساتھ میں، لیکن پتا نہیں تم سنتے بھی ہو نہیں۔۔۔ کچھ وقت سے شعر چھوڑ کر نثر پڑھنے لگا ہوں۔ بہت سے لوگ بہت اچھا لکھتے ہیں، پتا نہیں ہم ہزاروں سالوں سے کہاں تھے۔۔۔ ایلف شفق اچھا لکھتی ہیں، دو موضوعات پر انکی تحریر پڑھیں، تم نے اگر مجھ سے نہیں سنی تو تم پڑھنا۔ مجھے سناؤ گے تو ضرور سنوں گا۔ 

تمہیں سنانے کو ہی ابھی بول رہا ہوں، لیکن میری دعا ہے کہ تم اب بھی نہ سن رہے ہو۔۔۔ تمہیں جو دے چکا اس سے زائد تکلیف نہیں دینا چاہتا کہ مجھے ایک دن بحیثیت مجرم قلعہ کے مالکوں کے روبرو بھی پیش کیا جانا ہے۔