Thursday, 22 December 2022

تبسم کا تبرک

آج جن جھیلوں کا بس کاغذ میں نقشہ رہ گیا
ایک مدت تک میں اُن آنکھوں سے بہتا رہ گیا

میں اُسے ناقابل ِ برداشت سمجھا تھا مگر
وہ مرے دل میں رہا اور اچھا خاصہ رہ گیا

وہ جو آدھے تھے تجھے مل کر مکمل ہو گئے
جو مکمل تھا وہ تیرے غم میں آدھا رہ گیا

جسم کی چادر پہ راتیں پھیلتی تو تھیں مگر
میرے کاندھے پر ترا بوسہ ادھورا رہ گیا

وہ تبسم کا تبرک بانٹتا تھا اور میں
چیختا تھا اے سخی پھر میرا حصہ رہ گیا

آج کا دن سال کا سب سے بڑا دن تھا تو پھر

جو ترے پہلو میں لیٹا تھا وہ اچھا رہ گیا

 

Friday, 11 November 2022

اور تمھیں بھول گئے ہوں کبھی، ایسا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنّا بھی نہیں

لیکن اِس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں

 

دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں

لیکن اُس جلوہ گہہِ ناز سے اُٹھتا بھی نہیں

 

شکوۂ جور کرے کیا کوئی اُس شوخ سے جو

صاف قائل بھی نہیں، صاف مُکرتا بھی نہیں

 

مہربانی کومحبت نہیں کہتے، اے دوست

آہ اب مجھ سے تری رنجش بیجا بھی نہیں

 

بات یہ ہے کہ سکونِ دلِ وحشی کا مقام

کنجِ زنداں بھی نہیں، وسعتِ صحرا بھی نہیں

 

مدّتیں ہوئیں،  تِری یاد بھی آئی  نہ ہمیں

اور تمھیں بھول گئے ہوں کبھی، ایسا بھی نہیں

 

Tuesday, 16 August 2022

ہم تیرے غم سے گلہ کرتے تھے

-٭-

جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے
ہم بھی چپ چاپ پھرا کرتے تھے

آنکھ میں پیاس ھوا کرتی تھی
دل میں طوفان اٹھا کرتے تھے

لوگ آتے تھے غزل سننے کو
ہم تیری بات کیا کرتے تھے

کسی ویرانے میں تجھ سے مل کر
دل میں کیا پھول کھلا کرتے تھے

گھر کی دیوار سجانے کے لیے
ہم تیرا نام لکھا کرتے تھے

وہ بھی دن تھے بھلا کر تجھ کو
ہم تجھے یاد کیا کرتے تھے

جب تیرے درد میں دل دُکھتا تھا
ہم تیرے حق میں دعا کرتے تھے

بجھنے لگتا جو چہرہ تیرا
داغ سینے میں جلا کرتے تھے

اپنے جذبوں کی کمندوں سے تجھے
ہم بھی تسخیر کیا کرتے تھے

اپنے آنسو بھی ستاروں کی طرح
تیرے ہونٹوں پہ سجا کرتے تھے

چھیڑتا تھا غم دنیا جب بھی
ہم تیرے غم سے گلہ کرتے تھے

کل تجھے دیکھ کے یاد آیا ھے
ہم سخنور بھی ہوا کرتے تھے

-٭-

(محسن نقوی)

Thursday, 26 May 2022

تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مونثِ جاں

تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سے

تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی

 

ڈر رہا تھا کہ کہیں زخم نہ بھر جائیں میرے

اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی

 

اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تیرے چہرے پر

تو کسی اور ہی ستارے کی چمک لائی تھی

 

تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مونثِ جاں

کیا کروں میں کہ تو بولی ہی بہت کم مجھ سے

 

تیری چپ سے ہی یہ محسوس کیا تھا میں نے

جیت جائے گا کسی روز تیرا غم مجھ سے

 

شہر آوازیں لگاتا تھا مگر تو چپ تھی

یہ تعلق مجھے کھاتا تھا مگر تو چپ تھی

 

وہی انجام تھا عشق کا جو آغاز سے ہے

تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھ کھونا تھا

 

چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے

یہی ہوتا تھا یہی ہو گا یہی ہونا تھا

 

پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے

اور میری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے

 

میں نے اندازے لگائے کہ سبب کیا ہو گا

پر میرے تیر ترازو ہی نہیں ہوتے تھے

 

جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے

پھر وہ خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا میں

 

جس کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل میں

میری قسمت میں ہی جب خالی جگہ لکھی تھی

 

تجھ سے شکوہ بھی اگر کرتا تو کیسے کرتا ۔۔

 

میں وہ سبزہ تھا جسے روند دیا جاتا ہے

میں وہ جنگل تھا جسے کاٹ دیا جاتا ہے

 

میں وہ در تھا جسے دستک کی کمی کھاتی ہے

میں وہ منزل تھا جہاں ٹوٹی سڑک جاتی ہے

 

میں وہ گھر تھا جسے آباد نہیں کرتا کوئی

میں تو وہ تھا کہ جسے یاد نہیں کرتا کوئی

 

 

خیر اس بات کو تو چھوڑ بتا کیسی ہے؟؟

تو نے چاہا تھا جسے وہ تیرے نزدیک تو ہے

کون سے غم نے تجھے چاٹ لیا اندر سے

آج کل پھر تو چپ رہتی ہے سب ٹھیک تو ہے

 

Friday, 25 March 2022

کسی صحرائی یا اونٹ چرانے والے کو مرجان مِل جائے تو وہ اسے صرف اس وقت تک اپنے پاس رکھ سکتا ہے جب تک اسکی اصل کا علم و اندازہ نہ ہو، جیسے ہی اُسے اصل کا علم ہو گا، وہ  نہ صرف اسکی ملکیت سے دستبردار ہو جائے گا بلکہ اپنی ذات  سے زیادہ اس کے لیے پریشان رہے گا۔

لیکن مرجان اگر کسی جوہری کو مِلا ہے تو یقیناً وہ اسے اسکی شان کے مطابق سنبھال کر اور اکرام سے رکھے گا کیونکہ وہ عالم بھی ہے اور خود اس قدر مقام رکھتا ہے کہ مرجان زیب کر سکے۔

اور اگر یہی ننھا خوبصورت پھول کسی جاہل کے ہاتھ چلا گیا ہے اور ایک ریوڑ کے درمیان پہنچ چکا ہے تو پہلے روز تو شاید وہ صرف ایک پتھر ہی کی حیثیت  رکھے گا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسکا   یونانی افسانوں میں بیان کردہ   کردار  سچ ثابت ہو نے لگے گا۔ اسکا سحر سر چڑھ کر بولنے لگے گا، اور جلد ایسا وقت آئے گا  کہ اسکا  گِرد،   اسکے حصار میں ہوگا۔