-٭-
جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے
ہم بھی چپ چاپ پھرا کرتے تھےآنکھ میں پیاس ھوا کرتی تھی
دل میں طوفان اٹھا کرتے تھےلوگ آتے تھے غزل سننے کو
ہم تیری بات کیا کرتے تھےکسی ویرانے میں تجھ سے مل کر
دل میں کیا پھول کھلا کرتے تھےگھر کی دیوار سجانے کے لیے
ہم تیرا نام لکھا کرتے تھےوہ بھی دن تھے بھلا کر تجھ کو
ہم تجھے یاد کیا کرتے تھےجب تیرے درد میں دل دُکھتا تھا
ہم تیرے حق میں دعا کرتے تھےبجھنے لگتا جو چہرہ تیرا
داغ سینے میں جلا کرتے تھےاپنے جذبوں کی کمندوں سے تجھے
ہم بھی تسخیر کیا کرتے تھےاپنے آنسو بھی ستاروں کی طرح
تیرے ہونٹوں پہ سجا کرتے تھےچھیڑتا تھا غم دنیا جب بھی
ہم تیرے غم سے گلہ کرتے تھےکل تجھے دیکھ کے یاد آیا ھے
ہم سخنور بھی ہوا کرتے تھے-٭-
(محسن نقوی)