سر میں سودا
بھی نہیں، دل میں تمنّا بھی نہیں
لیکن اِس ترکِ
محبت کا بھروسہ بھی نہیں
دل کی گنتی نہ
یگانوں میں نہ بیگانوں میں
لیکن اُس جلوہ
گہہِ ناز سے اُٹھتا بھی نہیں
شکوۂ جور کرے
کیا کوئی اُس شوخ سے جو
صاف قائل بھی
نہیں، صاف مُکرتا بھی نہیں
مہربانی کومحبت
نہیں کہتے، اے دوست
آہ اب مجھ سے
تری رنجش بیجا بھی نہیں
بات یہ ہے کہ
سکونِ دلِ وحشی کا مقام
کنجِ زنداں بھی
نہیں، وسعتِ صحرا بھی نہیں
مدّتیں ہوئیں، تِری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور تمھیں بھول
گئے ہوں کبھی، ایسا بھی نہیں