Sunday, 30 April 2023

۔*۔ آپ کے انکار پر بھی آپ کو پتا لکھ بھیجنے پر معذرت ۔*۔

شہر لاہور میں  ہزاروں ایسے مقامات ہونگے جہاں پر  آپ  بے وجہ بیٹھ  کر  گھنٹوں  گزار سکتے ہیں، اور میرے جیسے  مطالعہ سے بھاگے ہوئے شخص کے لیے جنت  ہیں۔  

اتنے سالوں میں ، میں نے لاہور  کو مکمل نہیں دیکھا۔ کیونکہ 2011 میں ہی مجھے لاہور کے 3 مقامات پسند آ گئے تھے،  جہاں میں نے دن کے پندرہ ، پندرہ  گھنٹے گزار دیے، اور باقی لاہور کے لیے کبھی وقت نہ نکال سکا۔

ان میں ایک مقام  مرشدی   ڈاکٹر محمد اقبال کا مقبرہ   اور حضوری باغ بھی ہے۔   اس مقام پر  مجھے لفظ ادب، عقیدت  اور محبت  کا معلوم ہوا۔

اقبال  جرمنی میں  چھے ماہ  رہے ، لیکن جرمنی میں آج  116 سال بعد بھی  اقبال  کے نام ،    ایک سڑک، ایک گھر   اور شائد  زمین تلے  ایک دل موجود ہے۔      مس ایما  ویگے ناست کو  2 دسمبر 1907ء   کو لکھے ہوئے اس خط میں   ہائڈل برگ کے دریا و میدان کی خوبصورتی کی وجہ اور  ادب و عقیدت میں لپٹی محبت کی چنگاری  دیکھیے۔  

"میں زیادہ لکھ یا کہہ نہیں سکتا، لیکن آپ تصور کرسکتی ہیں کہ میری روح میں کیا ہے۔ میری بہت بڑی خواہش یہ ہے کہ میں دوبارہ آپ سے بات کرسکوں اور آپ کو دیکھ سکوں،لیکن میں نہیں جانتا کہ کیا کروں۔ جو شخص آپ سے دوستی کرچکا ہو، اس کے لیے ممکن نہیں کہ آپ کے بغیر جی سکے۔ براہ کرم میں نے جو لکھا ہے، اس کے لیے مجھے معاف کردیجیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس قسم کے اظہار جذبات کو پسند نہیں کرتیں۔ براہ کرم جلد لکھیے اور سب کچھ۔  یہ اچھا نہیں کہ کسی شخص کا کچھ بگاڑا جائے، جو آپ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔"

یاد رکھیے  اقبال  نے مس ایما کے ساتھ صرف چھے ماہ کے دن یا شامیں گزاریں۔ جن میں سے کچھ دن مس ایما  کالج سے چھٹی پر رہیں کہ انہیں انکے گاؤں والدین کے پاس بھی جانا ہوتا تھا۔

اقبال کے الفاظ سے بڑھ کر میں آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا کہ  میرا مطالعہ و الفاظ  حضرت سے بہت کم اور ضعیف ہیں۔

اگر چھے ماہ  کے بعد اقبال مجبور ہیں  تو  میں نے اس طرح کے آٹھ عرصے  آپ کے ساتھ گزارے ہیں، اس لیے     آپ کو کہے ہر لفظ  اور آپ کی طرف کشش  کے جذبات  کی ہر صورت میں  حق بجانب ہوں۔   مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے میرا دیا ہوا پتا  پڑھا  بھی کہ نہیں ، میں معذرت خواہ ہوں کہ میں مجبور تھا   کہ آپ کو لکھ بھیجا۔

علامہ کے الفاظ کو دوبارہ پڑھ لیجیے اور قبول فرمائے   کہ میرے پاس  ان سے بہتر الفاظ موجود نہیں جس میں وضاحت پیش کر سکوں۔

 

Friday, 21 April 2023

کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں
جو دل میں پوشیدہ ہیں
سارے روپ دکھا دے مجھ کو
جو اب تک نادیدہ ہیں

ایک ہی رات کے تارے ہیں
ہم دونوں اس کو جانتے ہیں
دوری اور مجبوری کیا ہے
اس کو بھی پہچانتے ہیں

کیوں پھر دونوں مل نہیں سکتے
کیوں یہ بندھن ٹوٹا ہے
یا کوئی کھوٹ ہے تیرے دل میں
یا میرا غم جھوٹا ہے