شہر لاہور میں ہزاروں ایسے مقامات
ہونگے جہاں پر آپ بے وجہ بیٹھ
کر گھنٹوں گزار سکتے ہیں، اور میرے جیسے مطالعہ سے بھاگے ہوئے شخص کے لیے جنت ہیں۔
اتنے سالوں میں ، میں نے لاہور کو
مکمل نہیں دیکھا۔ کیونکہ 2011 میں ہی مجھے لاہور کے 3 مقامات پسند آ گئے تھے، جہاں میں نے دن کے پندرہ ، پندرہ گھنٹے گزار دیے، اور باقی لاہور کے لیے کبھی
وقت نہ نکال سکا۔
ان میں ایک مقام مرشدی ڈاکٹر
محمد اقبال کا مقبرہ اور حضوری باغ بھی
ہے۔ اس مقام پر مجھے لفظ ادب، عقیدت اور محبت
کا معلوم ہوا۔
اقبال جرمنی میں چھے ماہ رہے ، لیکن جرمنی میں آج 116 سال بعد بھی اقبال
کے نام ، ایک سڑک، ایک گھر اور شائد زمین تلے
ایک دل موجود ہے۔ مس ایما
ویگے ناست کو 2 دسمبر 1907ء کو لکھے
ہوئے اس خط میں ہائڈل برگ کے دریا و
میدان کی خوبصورتی کی وجہ اور ادب و عقیدت
میں لپٹی محبت کی چنگاری دیکھیے۔
"میں زیادہ لکھ یا کہہ
نہیں سکتا، لیکن آپ تصور کرسکتی ہیں کہ میری روح میں کیا ہے۔ میری بہت بڑی خواہش
یہ ہے کہ میں دوبارہ آپ سے بات کرسکوں اور آپ کو دیکھ سکوں،لیکن میں نہیں جانتا کہ
کیا کروں۔ جو شخص آپ سے دوستی کرچکا ہو، اس کے لیے ممکن نہیں کہ آپ کے بغیر جی
سکے۔ براہ کرم میں نے جو لکھا ہے، اس کے لیے مجھے معاف کردیجیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ
آپ اس قسم کے اظہار جذبات کو پسند نہیں کرتیں۔ براہ کرم جلد لکھیے اور سب کچھ۔ یہ اچھا نہیں کہ کسی شخص کا کچھ بگاڑا جائے، جو
آپ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔"
یاد
رکھیے اقبال نے مس ایما کے ساتھ صرف چھے ماہ کے
دن یا شامیں گزاریں۔ جن میں سے کچھ دن مس ایما
کالج سے چھٹی پر رہیں کہ انہیں انکے گاؤں والدین کے پاس بھی جانا ہوتا تھا۔
اقبال
کے الفاظ سے بڑھ کر میں آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا کہ میرا مطالعہ و الفاظ حضرت سے بہت کم اور ضعیف ہیں۔
اگر
چھے ماہ کے بعد اقبال مجبور ہیں تو میں
نے اس طرح کے آٹھ عرصے آپ کے ساتھ گزارے
ہیں، اس لیے آپ کو
کہے ہر لفظ اور آپ کی طرف کشش کے جذبات
کی ہر صورت میں حق بجانب ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے میرا دیا ہوا پتا پڑھا
بھی کہ نہیں ، میں معذرت خواہ ہوں کہ میں مجبور تھا کہ آپ
کو لکھ بھیجا۔
علامہ
کے الفاظ کو دوبارہ پڑھ لیجیے اور قبول فرمائے کہ میرے پاس ان سے بہتر الفاظ موجود نہیں جس میں وضاحت پیش
کر سکوں۔