Thursday, 20 November 2025
°معذرت کے ساتھ°
Saturday, 9 August 2025
آپ کا ساتھ دینے کو کوئی دلیل یا وجہ کی ضرورت نہیں مگر صرف آپ کی تسلی کے لیے میرے پاس بے شمار وجوہات و دلائل موجود ہیں
میں نے یہ طے
کیا تھا کہ اب نہیں لکھنا، بیشک کہ وہ شعر ہو یا نثر۔۔۔ مگر ! ! !
آپ کبھی یہ
بھی سوچیں گی کہ آپ اکیلی ہیں میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔ شائد آپ نے میری دِلجوئی
کے لیے یہ کہہ دیا ہو، ممکن نہیں کہ کسی
بھی ذی روح نے آپ کے ساتھ چند ساعتیں گزاریں ہوں اور وہ آپ کے ساتھ چلنے کا
متمنی نہ ہو۔ میں آپ
کی ذات کے بارے میں مبالغہ نہیں کرتا، جو کہتا ہوں اس پر یقین رکھتا ہوں۔
آج اس کا
تجربہ پھر سے ہوا، آپ کو یاد ہو گا کہ
میں نےباغ شہر میں انگریزی کے حرف (وائے )
کی طرح زمین کو کاٹتے دریاؤں کا بتایا تھا، آج مغرب کے وقت اس مقام پر پھر سے
موجود تھا۔ وہ شیشے کی طرح بہتا صاف پانی ہوا کرتا تھا مگر آج مٹی رنگ گدلا پانی مکمل
جوش سے بہہ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر دُکھ کا احساس ہوا، پاس موجود ایک مقامی سے اس
کے گدلے پن کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ دن تک تو یہ پانی بلکل صاف تھا ، شام
میں گدلا ہوا شائد کہیں اوپر پہاڑوں کی زمین سِرک گئی ہو گی جسکی مٹی پانی میں شامل ہو
گئی۔
اب اُس شخص کو
کیا بتاتا کہ زمین کس کی سِرکی ہے۔۔۔
یقین جانیں آپ
کا ساتھ نہ صرف کسی شخص کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے بلکہ اس کے گِرد بسنے والوں ،
نباتات و حیوانات کے لیے بھی ثمرمند ہو سکتا ہے۔
ان سب باتوں سے
قطع تعلق ، آپ کے ساتھ یا تابع چلنے کی خواہش کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ آپ میرے مالکوں کی آل و اولاد سے ہیں، کوئی شخص سو دلائل لے کر آئے اور آپ کے اجداد کی طرف سے ایک بھی
دلیل نہ ہو تو بھی خدا عزوجل کی قسم میرا ،
میرے اجداد کا فیصلہ آپ کے اجداد کی اقتدا کرنے کا ہوگا۔ بچپن سے میں نے جو کھایا ، پیا ، مجھے بتایا
گیا کہ یہ میرے مالکوں کی نسبت کا مِلا ہے ۔ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ جہاں دو
گروہ ہو جائیں وہاں ہم آپ کے اجداد کی اقتدا کریں۔
محبت، عشق، خواہشات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، ایمان و عقیدت
اول ہیں۔ میں نے قبل از محبت آپ سے عقیدت
رکھی۔ جب جب آپ کو مالِکَۃ کہا تو ذہن میں یہ رہا کہ آپ مالکوں کی آل سے ہیں،
میرے لیے یہی کافی سے زیادہ کافی ہے آپ کا ساتھ دینے کے لیے۔مجھے آکر کوئی نہیں
بتا سکتا کہ آپ کسی معاملے میں غلط ہیں ۔
اوپر سب اس لیے کہ آپ یقین
رکھیں کہ میرے الفاظ فقط الفاظ نہیں ، عقیدت، محبت، عشق بھی ہیں۔
اگر کبھی وہ وقت آجائے جو خدا
کرے کہ لوح محفوظ میں لِکھا ہی نہ ہو کہ
آپ اکیلی ہوں تو حق سے، مالک کی حیثیت سے آپ مجھے یاد کر سکتی ہیں، ان شاء اللہ
آپ مجھے اپنے خیر خواہوں میں پائیں گی۔
(ورقہ نے پیارے آقاﷺ سے عرض کی تھی کہ کاش کہ
میں اس وقت موجود ہوں جب آپ کی قوم آپ کو ، آپ کے وطن سے ہجرت پر مجبور کرے گی۔
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ورقہ یہ چاہتے تھے کہ ایسا ہو۔۔۔ اس کا مطلب فقط یہ کہ
وہ چاہتے تھے کہ اگر ان کےعلم کے مطابق
ایسا وقت آنا ہے تو وہ موجود ہوں مگر خدمت کے لیے، آپ ﷺ کے ساتھ کے لیے۔۔۔)
میرا مقصد بھی یہی ہے۔۔۔ نہ کہ
تکلیف کی خواہش۔ میں موجود ہوں گاکہ آپ کی خدمت میں حاضر رہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ
آپ کو کبھی بھی ضرورت نہیں ہو سکتی۔
( میں اور بہت کہنا چاہتا ہوں
مگر پہلے ہی بہت طویل کر چکا ہوں اور جو کچھ ذہن میں چل رہا ہے لکھنا محال بھی ہے،
عشاء بھی ادا نہیں کی اب تک)