Wednesday, 27 December 2017

.*.جان نگاہ روح تمنا چلی گئی.*.

.*.
جان نگاہ روح تمنا چلی گئی 

اے نجد آرزو میری لیلیٰ چلی گئی 
رخصت ہوئی دیار سے اک نازش دیر 
صحرا سی اک غزالہ صحرا چلی گئی 
برباد ہو گئی میری دنیا جستجو 
دنیا جستجو میری دنیا چلی گئی 
زوھرا میرا ستارہ قسمت خراب ہے 
ناہید آج میری ثر یا چلی گئی 
کس سے کہو کہ ایک سراپا وفا مجھے 
تنہائیوں میں چھوڑ کر تنہا چلی گئی 
مجھ کو ملا متوں کے جہنم میں چھوڑ کر 
اک خلد عہد جنت ایفا چلی گئی 
اب انتظار عشرت فردا نہیں رہا 
امید گاہ عشرت فردا چلی گئی 
کسے کہو کہ وہ غم الفت فریب تھا 
کسے یقین کرو زلیخا چلی گئی 
اے بزم دختران قبیلہ یہ کیا ہوا 
وہ جان دلبراں قبیلہ چلی گئی 
فرہاد سن لیا تیری شیریں کہاں ہے آج 
وامق خبر بھی ہے تیری عذرا چلی گئی 
اس انجمن سی رقص تماشا طلب نہ کر 
جس انجمن کی انجمن آرا چلی گئی 
.*.

Tuesday, 19 December 2017

سرزیرِ بارِ ساغر و بادہ نہیں کی

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

اسنے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دُکھ اوڑھتے نہیں کبھی بزم طرب میں ہم

ملبوسِ دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود

سرزیرِ بارِ ساغر و بادہ نہیں کیا

کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام

اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغ وسبو نہ ہوں

اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

Thursday, 7 December 2017

۔*۔ میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یونہی ۔*۔

۔*۔
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے 

کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاوں میں
گزرنے پاتی، تو شاداب ہو بھی سکتی تھی 
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے 

تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی 



عجب نہ تھا کہ میں بے گانہءِ الم ہو کر 
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا 
ترا گداز بدن، تیری نیم باز آنکھیں 
انہیں حسین فسانوں میں محو ہو رہتا 
پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی 
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا 
حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں! 
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا 

مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے 
کہ تو نہیں ترا غم، تری جستجو بھی نہیں 
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے 
اسے "کسی" کے سہارے کی آرزو بھی نہیں 

زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے 
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے 

مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں 
حیات و موت کے پرہول خارزاروں میں 

نہ کوئی جادہء منزل نہ روشنی کا سراغ 
بھٹک رہی ہے خلاوں میں زندگی میری 
انہی خلاوں میں رہ جاوں گا کبھی کھو کر 

میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یونہی 
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
۔*۔

Thursday, 23 November 2017


۔*۔
تُو تو سرمایہ ہستی ہے ترا ذکر ہی الگ
ہم تو دشمن کو بھی اے دوست دعا دیتے ہیں
۔*۔

Sunday, 29 October 2017

اب میں ہوں اک عذاب میں اور عجب عذاب میں جنت پر سکوت میں، مجھ سے کلام ہو گیا

۔*۔
دید کی ایک آن میں کار دوام ہو گیا
وہ بھی تمام ہو گیا میں بھی تمام ہو گیا

اب میں ہوں اک عذاب میں اور عجب عذاب میں
جنت پر سکوت میں، مجھ سے کلام ہو گیا

آہ وہ عیش راز جاں ہائے وہ عیش راز جاں
ہائے وہ عیش راز جاں شہر میں عام ہو گیا

رشتۂ رنگ جاں مرا نکہت ناز سے تری
پختہ ہوا اور اس قدر یعنی کہ خام ہو گیا

پوچھ نہ وصل کا حساب حال ہے اب بہت خراب
رشتۂ جسم و جاں کے بیچ جسم حرام ہو گیا

شہر کی داستاں نہ پوچھ ہے یہ عجیب داستاں
آنے سے شہریار کے شہر غلام ہو گیا

دل کی کہانیاں بنیں کوچہ بہ کوچہ کو بہ کو
سہہ کے ملال شہر کو شہر میں نام ہو گیا

جونؔ کی تشنگی کا تھا خوب ہی ماجرا کہ جو
مینا بہ مینا مے بہ مے جام بہ جام ہو گیا

اس کی نگاہ اٹھ گئی اور میں اٹھ کے رہ گیا
میری نگاہ جھک گئی اور سلام ہو گیا

۔*۔

Saturday, 30 September 2017

کربلا کے جانثاروں کو سلام ۔ منقبت شہدائے کربلا

کربلا کے جاں نثاروں کو سلام۔۔۔۔۔فاطِمہ زَہرا کے پیاروں کو سلام

مصطَفےٰ کے ماہ پاروں کو سلام۔۔۔۔۔نوجوانوں گُلعَذاروں کو سلام
کربلا تیری بہاروں کو سلام۔۔۔۔۔جاں نثاری کے نظاروں کو سلام
یا حسین ابن علی مشکل کشا۔۔۔۔۔آپ کے سب جاں نثاروں کو سلام
اکبر و اصغر پہ جاں قربان ہو۔۔۔۔۔میرے دل کے تاجداروں کو سلام
قاسم و عباس پر لاکھوں درود۔۔۔۔۔کربلا کے شَہسَواروں کو سلام
جس کسی نے کربلا میں جان دی۔۔۔۔۔اُن سبھی "ایمانداروں" کو سلام
بُھوکی پیاسی بِیبیوں پر ہو دُرُود۔۔۔۔۔بھوکے پیاسے گُلعَذاروں کو سلام
بھید کیا جانے شہادت کا کوئی۔۔۔۔۔اُن خدا کے رازداروں کو سلام
بے بسی میں بھی حَیا باقی رہی۔۔۔۔۔سب حُسَینی پردہ داروں کو سلام
رَحْمتیں ہوں ہر صَحابی پر مُدام۔۔۔۔۔اور خُصُوصًا چار یاروں کو سلام
بِیبیوں کو عابِدِ بیمار کو۔۔۔۔۔بے کسوں کو سب بِچاروں کو سلام
ہوگئے قربان محمد اور عَون۔۔۔۔۔سیدہ زَینب کے پیاروں کو سلام
کربلا میں ظُلم کے ٹوٹے پہاڑ۔۔۔۔۔جن پہ ان سب دلفِگاروں کو سلام
اٰل و اصحابِ نبی کے جس قَدَر۔۔۔۔۔چاہنے والے ہیں ساروں کو سلام
یاخدا! اے کاش! جاکر پھر کروں۔۔۔۔۔کربلا کے سب مَزاروں کو سلام
تین دِن کے بھوکے پیاسے یانبی!۔۔۔۔۔آپکی آنکھوں کے تاروں کو سلام
جو حُسَینی قافلے میں تھے شریک۔۔۔۔۔کہتے ہیں، "عطّار" ساروں کو سلام

(صلی اللہ تعالی علی محمد ، صلی اللہ تعالی علیہ و سلم)

رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین

Monday, 25 September 2017

شہزادوں کے نام



زرق برق پہنو تم
یا گلی محلوں میں
بے لباس گھومو تم
کیا کہیں کہ اچھا ہے
کیا برا سا لگتا ہے
تم کہ شاہزادے ہو
تم پہ سب ہی جچتا ہے
مسئلہ ہمارا ہے
ہم مطیع و احقر ہیں
صاحبوں کی مجلس میں
بے وقار نوکر ہیں
ریشمی بھی پہنیں تو
تہمتوں سا لگتا ہے
تم وطن کے مالک ہو
خاک پر جو تھوکو بھی
خاک چوم لیتی ہے
ہم وطن میں بے وطنے
خون بھی لٹائیں تو
رائیگاں ہی جاتا ہے
تم مرو تو زندہ ہو
ہم جئیں تو مردہ ہیں
کھیل ہے مقدر کا
رزق نے جو کھیلا ہے
رزق کے تمنائی
فیصلے سے ڈرتے ہیں
شام تک کی محنت ہے
چونچ سے نہ گرجائے
بولنے سے ڈرتے ہیں
تم تو شاہزادے ہو
بے خبر ہو سادے ہو
کس طرح یہ جانو تم
سرنگوں جو ہوتے ہیں
بے وجہ نہیں ہوتے

Saturday, 23 September 2017

رئیس امروہوی کا ایک جوابی شاہکار

۔*۔
دنیا کو کیا خبر؟ مری دنیا پھر آ گئی
وہ روح ناز و جان تمنا پھر آ گئی
اے روح قیس! تہنیت شوق دے مجھے
لیلیٰ پھر آ گئی مری لیلیٰ پھر آ گئی
اب اور کیا ہے چشم تماشا کی آرزو
وہ آرزوئے چشم تماشا پھر آ گئی
کہتے ہوئے کہ آپ کے صرف آپ کے لئے
سب سے بچھڑ کے آپ کی عذرا پھر آ گئی
روٹھے ہوئے تھے آپ منانے کے واسطے
یہ مجرم گناہ تمنا پھر آ گئی
احباب راز داں میں یہی تذکرہ ہے آج
فرقت زدہ رئیسؔ کی دنیا پھر آ گئی

۔*۔

Friday, 18 August 2017

گڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میں

۔
وہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میں
گڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میں
گماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہو
وہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہو
۔*۔
۔*۔
کس سے اظہار مدعا کیجے

آپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے 

آپ تھے جس کے چارہ گر وہ جواں 

سخت بیمار ہے دعا کیجے
۔*۔

Tuesday, 25 April 2017

ہم - - - کیا واقعی یہ روایات ہمیں بہتری کی طرف لے کر جا رہی ہیں؟


ہم


اگر اک نظر ہمارے ہاں بہتے دریاؤں پر ڈالی جائے تو تمام تر کا رخ مغرب کی اور سفر پستی کی جانب ہے۔ عندالمنزل سمندر دریا کی شکل اور طبعی خصوصیات کو اپنے اندر ضم کر رہا ہے۔ اس کا ذائقہ اور استعمال یکسر بدل جاتا ہے۔ 
کچھ یہی حال اس خطے پر بسنے والی قوم کا بھی ہے۔ مغرب کی خواہش ، پستی کی طرف بہتے چلے جانا، اپنی خصوصیات و اقدار، شکل و صورت، اور طبیعت کا رہجان اس طرح سے بدلنا کہ خود کو تسلی رہے کہ ضرورتِ وقت اور فطرت ہے۔
عرصہ ہوا معاشرے کو بھی اب اس تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں رہا۔ معاشرے کی اقدار کی ضامن افرادی قوت کی منزل اور اقدار کا اندازہ کسی بھی غیر سرکاری سکول کے ایک دورہ سے کیا جا سکتا ہے۔
مجھے معلوم نہیں کہ تم نے کیسے بُھلا دیا جبکہ میں اُس دن سے اسی کشمکش میں ہوں، جس دن اعلیٰ تعلیم کے نام پر مجھے سمجھایا گیا کہ اپنے ہی ساتھ بسنے والوں کے اندر آسائش کی خواہش پیدا کرو، پھر اس خواہش کو ضرورت میں بدل دو اور جب مکمل یقین کروا چکو تو جس طرح چاہو اپنے ہی ہمسائے سے مکمل فائدہ اٹھاؤ۔ 
میں صرف اتنی یقین دہانی چاہتا ہوں؛ کیا واقعی یہ روایات ہمیں بہتری کی طرف لے کر جا رہی ہیں؟

Wednesday, 4 January 2017

Meri shikasat asl main kis ki shikast hai? میری شکست اصل میں کس کی شکست ہے ؟

تمہیں شکایت ہے کہ میں ملتا نہیں ہوں کسی سے ... تم یہ بھی تو سوچو کے اس کی وجہ کیا ہے؟؟؟
 مطلبی (یا تمہاری زبان میں) بہترین لوگوں کے درمیان تم مجھ سے میرا نقطہ نظر دریافت کرو تو مطلب (یا تمہاری زبان میں) بہتر یہی ہو گا نا کہ میں خاموش رہوں. تمہارا مشورہ یہ کہ میرے پاس قسمت و قابلیت موجود نہیں تو میں تقلید کر لوں، مطلب (یا تمہاری زبان میں) بہتر یہ کہ ہار مان جاؤں ؟؟؟
جون کا وہی شعر پھر سے سناتا ہوں۔ سنو اور سمجھو !!!

تم سوچتی بہت ہو، تو پھر یہ بھی سوچنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 میری شکست اصل میں کس کی شکست ہے ؟

Tuesday, 3 January 2017

2017 New Year Celebration. Burj Al Arab

"Every thing is fair in love and war..."

::__________"Every thing is fair in love and war..."
:: ___________ یہ جملہ میرے مذہب میں درست نہیں۔
محبت میں خود اقرارکیا جاتا ہے اصرار نہیں۔ مانا جانا، منانے پر فوقیت رکھتا ہے. محبت میں حقوق نہیں رہتے فقط فرائض باقی رہتے ہیں ۔ اور سنو محبت میں جملہ "تم کہو تو" سے شروع نہیں کیا جاتا، جو محبوب کو خوش کر سکے وہ کر گزرنا چاہیے. اور آخری بات کہتا ہوں کہ،
محبت اور جنگ دونوں، بلکہ ہر حالت میں کچھ حدود ہونا لازمی ہیں. میرے نزدیک بستر کی سلوٹوں کو محبت کی بجانے فحاشی کا نام دینا زیادہ مناسب ہے۔
خدا حافظ ۔ ۔ ۔
::_________ "You are so conservative..."

ہجر واحد طویل تعلق ہے۔

ہجر واحد طویل تعلق ہے۔
 تم آج بھی ملا کرو، بات کیا کرو، تم نے لازم کیوں کر رکھا ہے کہ گفتگو بصورت مکالمہ ہی ہو۔ اپنی تدبیر کو تقدیر کرنے کے لئے مناجات کرو۔ ہاں اس وقت کے بعد تک منت کرو جب زچ ہو جاؤ۔ 
پھر بھی لازم نہ سمجھنا کے دیکھو یا سن سکو۔
یاد رکھنا کہ "انتظار" سب سے خوبصورت اور دل فریب قیام گاہ ہے۔