Monday, 25 September 2017

شہزادوں کے نام



زرق برق پہنو تم
یا گلی محلوں میں
بے لباس گھومو تم
کیا کہیں کہ اچھا ہے
کیا برا سا لگتا ہے
تم کہ شاہزادے ہو
تم پہ سب ہی جچتا ہے
مسئلہ ہمارا ہے
ہم مطیع و احقر ہیں
صاحبوں کی مجلس میں
بے وقار نوکر ہیں
ریشمی بھی پہنیں تو
تہمتوں سا لگتا ہے
تم وطن کے مالک ہو
خاک پر جو تھوکو بھی
خاک چوم لیتی ہے
ہم وطن میں بے وطنے
خون بھی لٹائیں تو
رائیگاں ہی جاتا ہے
تم مرو تو زندہ ہو
ہم جئیں تو مردہ ہیں
کھیل ہے مقدر کا
رزق نے جو کھیلا ہے
رزق کے تمنائی
فیصلے سے ڈرتے ہیں
شام تک کی محنت ہے
چونچ سے نہ گرجائے
بولنے سے ڈرتے ہیں
تم تو شاہزادے ہو
بے خبر ہو سادے ہو
کس طرح یہ جانو تم
سرنگوں جو ہوتے ہیں
بے وجہ نہیں ہوتے

No comments:

Post a Comment