زرق برق پہنو تم
یا گلی محلوں میں
بے لباس گھومو تم
کیا کہیں کہ اچھا ہے
کیا برا سا لگتا ہے
تم کہ شاہزادے ہو
تم پہ سب ہی جچتا ہے
مسئلہ ہمارا ہے
ہم مطیع و احقر ہیں
صاحبوں کی مجلس میں
بے وقار نوکر ہیں
ریشمی بھی پہنیں تو
تہمتوں سا لگتا ہے
تم وطن کے مالک ہو
خاک پر جو تھوکو بھی
خاک چوم لیتی ہے
ہم وطن میں بے وطنے
خون بھی لٹائیں تو
رائیگاں ہی جاتا ہے
تم مرو تو زندہ ہو
ہم جئیں تو مردہ ہیں
کھیل ہے مقدر کا
رزق نے جو کھیلا ہے
رزق کے تمنائی
فیصلے سے ڈرتے ہیں
شام تک کی محنت ہے
چونچ سے نہ گرجائے
بولنے سے ڈرتے ہیں
تم تو شاہزادے ہو
بے خبر ہو سادے ہو
کس طرح یہ جانو تم
سرنگوں جو ہوتے ہیں
بے وجہ نہیں ہوتے
No comments:
Post a Comment