Thursday, 5 October 2023

*منزل*

حادثہ بن کہ کوئی خواب بکھر جائے تو کیا ہو!

 

وقت جذبات کو تبدیل نہیں کر سکتا

دور ہو جانے سے احساس نہیں مر سکتا

 

یہ محبّت ہے دلوں کا رشتہ

ایسا رشتہ جو زمینوں کی طرح

سرحدوں میں کبھی تقسیم نہیں ہو سکتا

 

تو کسی اور کی راتوں کا حسین چاند سہی

میری دنیا کے ہر رنگ میں شامل تو ہے

تجھ سے روشن ہیں

 میرے خواب

میری امید

میں کسی بھی راہ سے گزروں

میری منزل تو ہے

میری منزل تو ہے

صرف تو

Wednesday, 20 September 2023

٭

 

لکھوں گا خون سے یہ داستان جو گزری مجھ پہ

مر جاؤں گا مگر کسی سے کچھ کہوں گا نہیں

سفر جو کر رہا ہوں اسکا میں مسافر نہیں

میری منزل تھی تو، مگر اب یہ ممکن نہیں

Saturday, 19 August 2023

٭میرا حاصل میری تقدیر بتا دے مجھ کو٭

میری درماندہ جوانی کی تمناؤں کے

مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو

 

کون جانے مرے امروز کا فردا کیا ہے

قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں

دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں

دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں

 

میرا حاصل میری تقدیر بتا دے مجھ کو

 

تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہک

تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں

ڈھونڈتی رہتی ہیں تخئیل کی بانہیں تجھ کو

سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں

 

تیرا الطاف و کرم ایک حقیقت ہے مگر

یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو

تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام

دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو

 

تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن

میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں

تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم

تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں

 

پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی

تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں

تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں

ان تمناؤں کا اظہار کروں یا نہ کروں

 

میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں

تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے

کبھی اپنی سی کبھی غیر نظر آئی ہے

کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے

 

چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں

عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے

زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشان سی تھی

اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے

 

میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی

تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں

پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو

میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں

 

(ساحر  لدھیانوی)

  

Saturday, 12 August 2023

٭خبط و آوارگی٭

ایک نظریہ  متبادل جہاں  ( Parallel Universe) ہے کہ اِس جہاں سے دور ایک اور اِس طرح کا جہاں موجود ہے، جو اِس زمین  پر نہ ہونے والے واقعات یا  ناممکنات کا مظہر ہے۔

میں اِس بات پر بھی پریشاں ہوں کہ کیا اِس وقت اُس زمین پر آپ میرے ہمراہ ہیں؟

کہ اگر میں یہاں نا ممکنات کی خواہش کا اسیر ہوں تو ایک الگ جہاں میں میری یہ خواہش ممکن بھی ہے اور موجود بھی ؟  مگر پریشانی یہ کہ کیا اُسی جہاں میں آپ بھی خواہش کے تحت ہمراہ ہیں یا آپ کسی اور جہاں میں کسی اور خواہش کی تکمیل میں ہیں!!!

کیا کسی موجود دنیا میں آپ مجبوریوں کے تحت مجھ سے بھی بندھی ہیں؟  کیا کہیں  آپ کے معاملات  میرے سپرد بھی کیے گئے ہیں؟ کیا کہیں میرے فرائض اور آپ کے حقوق متحد بھی ہیں؟

میں مانتا ہوں کہ اس زمین پر معیشت و معاشرت بھی ایک غم ہے،

لیکن یہ پریشانی بھی کم نہیں۔

Sunday, 7 May 2023

-*- اسانوں پتہ اے جو صرف توں ایں -*-

اسانوں کے پتہ!      کیہڑی مسجد تے  کہیہ  کلیسے    تے   کیہڑے مندر

اساں  محبت دی   "م" کڈھ کے  تے  "ح" نوں  دے کے،  تے  "د"  لا  کے  خدائے احمد   دی حمد کیتی

 

اساں تاں  پکھواں  نوں پیار کیتا

اساں  تاں جنگلاں  نوں سینے لایا

اساں تاں دریا دا گُھٹ چا بھریا

اساں  تاں  ریتاں اچ   سجدے کیتے

اساں نہ  ڈِٹھا، اساں  نہ  سنُڑیاں ،  اساں  نہ بولے

اساں  مریجے ، اساں  کٹیجے

اساں دی ہڈیاں دا سرمہ  بنڑ کے     ہوا  دی اَکھ  اچ پویندا  وتیا

 

اسانوں  کے پتہ کونڑ نیوٹن  تے کیہڑے حرکت دے فارمولے

اسانوں  پتہ اے جوں  سِدھا   ونجڑا  ئے ،  نِیو  کے ٹُرنا ئے  تے  اَکھ  نئیں  پٹنڑیں

 

اسانوں  کے  پتہ  ریڈ بلڈ سیل  وغیرہ  کے ہِن

اسانوں  پتہ  اے  جو  خون  رتا اے   تے اتنا رتا اے  ،    جوں تیرے ہتھاں  تے مہندی لگسی

 

اسانوں پتہ  اے جو  فیثا غورث  تیرے بدن  دے  ریاضیاتی اصول  بلکل سمجھ نئیں سَکیا

تیرے بدن دے  تاں  زاویے ، مستطیلاں  ، قوساں ،  مثلثاں   ، بئے  جہان  دیاں ہِن

 

اسانوں  پتہ  اے  جو صرف   توں     ایں

اسانوں پتہ اے جہاں  دھوں  ایں

 

اسانوں  پتہ  جو کائیناتاں دا  روگ کیویں  مکاونڑاں ہے

اسانوں پتہ   جو  توں  اداس  ہے   تے تینوں  کیویں  ہساونڑاں  ہے


(شاعر: دانش نقوی)


Sunday, 30 April 2023

۔*۔ آپ کے انکار پر بھی آپ کو پتا لکھ بھیجنے پر معذرت ۔*۔

شہر لاہور میں  ہزاروں ایسے مقامات ہونگے جہاں پر  آپ  بے وجہ بیٹھ  کر  گھنٹوں  گزار سکتے ہیں، اور میرے جیسے  مطالعہ سے بھاگے ہوئے شخص کے لیے جنت  ہیں۔  

اتنے سالوں میں ، میں نے لاہور  کو مکمل نہیں دیکھا۔ کیونکہ 2011 میں ہی مجھے لاہور کے 3 مقامات پسند آ گئے تھے،  جہاں میں نے دن کے پندرہ ، پندرہ  گھنٹے گزار دیے، اور باقی لاہور کے لیے کبھی وقت نہ نکال سکا۔

ان میں ایک مقام  مرشدی   ڈاکٹر محمد اقبال کا مقبرہ   اور حضوری باغ بھی ہے۔   اس مقام پر  مجھے لفظ ادب، عقیدت  اور محبت  کا معلوم ہوا۔

اقبال  جرمنی میں  چھے ماہ  رہے ، لیکن جرمنی میں آج  116 سال بعد بھی  اقبال  کے نام ،    ایک سڑک، ایک گھر   اور شائد  زمین تلے  ایک دل موجود ہے۔      مس ایما  ویگے ناست کو  2 دسمبر 1907ء   کو لکھے ہوئے اس خط میں   ہائڈل برگ کے دریا و میدان کی خوبصورتی کی وجہ اور  ادب و عقیدت میں لپٹی محبت کی چنگاری  دیکھیے۔  

"میں زیادہ لکھ یا کہہ نہیں سکتا، لیکن آپ تصور کرسکتی ہیں کہ میری روح میں کیا ہے۔ میری بہت بڑی خواہش یہ ہے کہ میں دوبارہ آپ سے بات کرسکوں اور آپ کو دیکھ سکوں،لیکن میں نہیں جانتا کہ کیا کروں۔ جو شخص آپ سے دوستی کرچکا ہو، اس کے لیے ممکن نہیں کہ آپ کے بغیر جی سکے۔ براہ کرم میں نے جو لکھا ہے، اس کے لیے مجھے معاف کردیجیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس قسم کے اظہار جذبات کو پسند نہیں کرتیں۔ براہ کرم جلد لکھیے اور سب کچھ۔  یہ اچھا نہیں کہ کسی شخص کا کچھ بگاڑا جائے، جو آپ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔"

یاد رکھیے  اقبال  نے مس ایما کے ساتھ صرف چھے ماہ کے دن یا شامیں گزاریں۔ جن میں سے کچھ دن مس ایما  کالج سے چھٹی پر رہیں کہ انہیں انکے گاؤں والدین کے پاس بھی جانا ہوتا تھا۔

اقبال کے الفاظ سے بڑھ کر میں آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا کہ  میرا مطالعہ و الفاظ  حضرت سے بہت کم اور ضعیف ہیں۔

اگر چھے ماہ  کے بعد اقبال مجبور ہیں  تو  میں نے اس طرح کے آٹھ عرصے  آپ کے ساتھ گزارے ہیں، اس لیے     آپ کو کہے ہر لفظ  اور آپ کی طرف کشش  کے جذبات  کی ہر صورت میں  حق بجانب ہوں۔   مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے میرا دیا ہوا پتا  پڑھا  بھی کہ نہیں ، میں معذرت خواہ ہوں کہ میں مجبور تھا   کہ آپ کو لکھ بھیجا۔

علامہ کے الفاظ کو دوبارہ پڑھ لیجیے اور قبول فرمائے   کہ میرے پاس  ان سے بہتر الفاظ موجود نہیں جس میں وضاحت پیش کر سکوں۔