Monday, 8 April 2024

اب کے ہم پیاس کے مارے بھی نہیں آئیں گے

یم  بہ یم  آب   پکارے بھی نہیں آئیں گے

 

رائیگانی کا وہ عالم ہے کہ یوں لگتا ہے

میرے حصے میں خسارے بھی نہیں آئیں گے

 

اتنی بے زار ہیں آنکھیں کہ خدا جانتا ہے

ہمکو اب خواب تمہارے بھی نہیں آئیں گے

 

کوئی گرداب نہیں آئے گا اب  پیش سفر

اور ستم یہ ہے  کنارے بھی نہیں آئیں گے

 

ایسے چھوڑیں گے تیرا شہر کہ ہم اس کی طرف

گردشِ وقت کے مارے بھی نہیں آئیں گے

 

(ظہیر مشتاق رانا)